18 مارچ 2010 - 20:30

عراق کے صدر جلال طالبانی نے عرب ملکوں سےمطالبہ کیاہے کہ وہ عراق کے سلسلے میں اپنا منفی رویہ ترک کرکے اس ملک میں جمہوریت اور سیاسی عمل کی حمایت کریں۔

عراقی صدر نے عرب لیگ کے جوائنٹ سکریٹری احمدبن حلی سے ملاقات ميں کہا کہ عراق اس وقت ایک طاقتور اورجمہوری ملک ہے جس کی عدالتیں آزاد ہیں اورجہاں انسانی حقوق کی پابندی کی جاتی ہے۔ اس موقع پرعرب لیگ کے جوائنٹ سکریٹری نے بھی کہا کہ عرب ممالک عراق کے قانونی اداروں اورحکومت کےساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے خواہش مندہيں  احمد بن حلی کا یہ بیان ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ  صدام کی بعثی حکومت  کا تختہ الٹے ہوئے سات سال کاعرصہ گذرنے کے باوجود اکثرعرب ممالک عراق کی منتخب حکومت کے سلسلے میں منفی رویہ اختیارکئے ہوئے ہيں۔

عرب ملکوں سے جلال طالبانی کی درخواست _ تبصرہعراق کے صدرجلال طالبانی نے عرب ملکوں سے کہا ہے کہ وہ بغداد کے حکومت کے بارے میں اپنے منفی نظریات اوررویۓ ترک کردیں .انھوں نے عرب ليگ کے جوانئٹ سکریٹری احمد بن حلی سے ملاقات میں عرب ملکوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا عرب ملکوں کوچاہئے کہ وہ عراق کے جمہوری تجربے سے فائدہ اٹھائيں اورعراق کے سیاسی عمل کی حمایت کريں ۔ اگرچہ عرب ليگ کے جوائنٹ سکریٹری نے بھی کہا کہ عراق کے ساتھ عرب ملکوں کے تعلقات ضروری ہيں لیکن گذشتہ سات برسوں کے تجربے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عراق کے معاملات میں عرب لیگ کی طرف سے رول اداکرنے کے لئے ظاہرکی جانےوالی دلچسپیوں کے باوجود عراق کے بارے میں عرب حکومتوں کا رویہ بدستورمنفی اورمعاندانہ رہا ہے ۔ علاقے بعض عرب ممالک  نےجن میں سعودی عرب مصر متحدہ عرب امارات اورحتی لیبیاء بھی شامل ہيں حالیہ برسوں کے دوران عراق میں سرگرم دہشت گردگروہوں کے ساتھ تعلقات قائم اوراسی طرح عراق کی کالعدم بعث پارٹی کی حمایت کرکے عراق کے سیاسی عمل کوسب وتاژکرنے اوراس ملک کی سیکورٹی کودرہم برہم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں موجودشواہد وثبوت سے عراق میں ہونےوالے زیادہ تردہشت گردانہ اقدامات میں بعض عرب ممالک کا ہاتھ شامل ہے ۔ اس وقت بھی جب عراق میں عام انتخابات ہونےوالے ہیں علاقے کی عرب حکومتیں ان انتخابات میں اثراندازہونے کی کوششیں شروع کردی ہيں عراقی پارلیمنٹ کے ممبرحمید معلہ الساعد نے انکشاف کیا ہے کہ علاقے کے بعض عرب ممالک نے اپنے سازشی اقدامات کے تحت عراق کی کالعدم بعث پارٹیوں کی طرح بعض سیاسی گروہوں کومضبوط بنانے کے لئے بیس ملین ڈالربجٹ مختص کئے ہيں ۔اس وقت عراق کے داخلی معاملات میں سعودی عرب سمیت بعض عرب ملکوں کی مداخلت پہلے سے زیاد نمایاں ہوگئي ہے ۔ عراق کے ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ان عرب حکومتوں کواس بات کا خطرہ لاحق ہے کہ کہیں عراق جیسی جمہوریت کا تجربہ ان کے ملکوں میں بھی نہ دوہرایا جائے اوران کی آمرانہ اورشاہی حکومتوں کا خاتمہ نہ ہوجائے اسی لئے وہ عراق کے داخلی امورمیں مداخلت کرکے اس ملک کے سیاسی عمل کوسب وتاژکرنا چاہتے ہيں ۔ اس درمیان عراق کی حکومت نے علاقے کے بعض عرب ملکوں کے سازشی اقدامات کے مقابلے میں صبروتحمل سے کام لےکراقوام متحدہ اورعالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ عراق کی اس سلسلےمیں مدد کریں اوردوسرے ملکوں کوعراق کے داخلی معاملات میں مداخلت سے بازرکھیں ساتھ ہی عراقی حکومت کوعرب ملکوں سے یہ توقع ہے کہ وہ عراق کوبھی عرب دنیا کا ہی ایک حصہ سمجھیں اورعلاقائی وبین الاقوامی سطح پراس کے حیثیت وپوزیشن دوبارہ بحال ہونے کے تعلق سے  بغداد کی مددکریں